لاہو رکی ایوننگ گارڈین کورٹ کی زبوں حالی
صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی ایڈووکیٹ
چیئرمین ہیومن رائٹس فرنٹ انٹرنیشنل
ہمارئے عدالتی نظام کے ساتھ مذاق کی جو صورتحال ہے۔ وہ کئی دہائیوں سے جاری ہے جس طرح نظام حکومت کا خانہ خراب ہے جس طرح نظام تعلیم مشکلات کا شکار ہے اسی طرح نظام عد ل کے ساتھ بھی کھلواڑ ہورہا ہے اب حالت یہ ہے کہ لوگوں کو اِس نظام انصاف سے کوئی امید ہی نہیں رہی۔ جس طرح نوکر شاہی نے تمام حکومتی مشینری کو یرغمال بنا رکھا ہوا تھا اور یہ بیوروکریسی عوام الناس کیساتھ اچھوتوں جیسے سلوک کرتی ہے ِاسی طرح اب ہماری ماتحت عدلیہ میں بھی یہی علت عود آئی ہے۔ ماتحت عدلیہ کے جج صاحبان بھی خود کو وائسرائے ہند سمجھنے لگ گئے ہیں صبح آکر تھوڑی دیر عدالت میں بیٹھنے کے بعد کبھی کہیں اور کبھی کہیں گپیں ہانکتے پھرتے ہیں اگر ریڈر سے پوچھا جائے تو کہا جاتا ہے کہ وہ سینئر صاحب کے پاس میٹنگ میں ہیں۔
مضمون میں لاہو رکی ایوننگ گار ڈین کورٹ کے حوالے سے آنکھوں دیکھا حال جناب چیف جسٹس کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کیسے نا بالغان سے ملاقات سوہان روح بن گئی ہے۔ ایوننگ گارڈین کورٹ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ بچوں کو روایتی عدالتی ماحول سے منفرد ماحول فراہم کیا جائے اور عام عدالتی اوقات کا ر کے بعد بچے اپنے والد یا والدہ سے ملاقات کر سکیں۔ تاکہ اُن کے اذہان پر روایتی عدالتی ماحول کا اثر نہ ہوپائے۔ اِس مقصد کے لیے لاہور میں ایوننگ گارڈین کورٹ نیو سیشن فیز - II میں قائم کی گئی اِس مقصد کے لیے ایک خاتون جج کا بطور گارڈین جج ایوننگ کورٹ تقرر کیا گیا۔ دو پولیس اہلکار مرد اور ایک خاتون پولیس اہلکار کا بطور خاص تقرر کیا گیا۔
گارڈین کورٹ کے معاملات کے حوالے سے بہت سے مسائل اتنی پیچیدگیوں کے حامل ہیں کہ بچے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ماتحت عدلیہ میں میاں بیوی کے درمیان علیحدگی کی وجہ سے بچوں کی حوالگی اور اُن کی اپنے والد یا والدہ سے ملاقات کے حوالے سے احسن طور پر امور انجام نہیں دئیے جارہے ہیں۔ بچے اپنے والدین سے ملاقات کے لیے ذلیل وخوار ہو رہے ہوتے ہیں اور یہی حال اُن کے والدین کا بھی ہوتا ہے۔والدین کی ناچاقیوں کی سزا معصوم بچوں کو تو بھگتنا پڑتی ہی ہے اِس کے ساتھ ساتھ بچوں کے ماں باپ بھی گارڈین کورٹ کے چکر لگا لگا کر اور بچوں کے لیے نان و نفقہ کے حصول کے لیے جس طرح عدالتوں میں انتہائی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے یقینی طور ماں اور باپ اور اِسی طرح بچوں کے لیے بھی ایک مشکل صورتحال بن جاتی ہے۔ دوسری طرف اگر ان بچوں کی تعلیمی استعداد اور اُن کی ذہنی کیفیات کا اندازہ لگایا جایا تو یہ امر بالکل واضع ہے کہ بچے ذہنی طور پر کافی مسائل کا شکار ہوجاتے ہیں۔بن ماں یا باپ کے بغیر بچے کی شخصیت پر اثر انداز ہونے والے مضر اثرات کا ادراک وہی کر سکتا ہے جو اِس چکی میں پس رہا ہو۔ ماں یا باپ کے فوت ہوجانے کی صورت میں بچوں کو یہ صبر کو آہی جاتا ہے کہ اُن کی ماں یا اُن کا باپ اب اِس دُنیا میں نہیں ہے۔لیکن جب بچے اپنے ہم جماعتوں کو اپنے والدین کے ساتھ دیکھتے ہیں اور والدین کی مشترکہ تربیت اور محبت سے استفادہ ہو رہے ہوتے ہیں تو یہ معاملہ اُن بچوں کے لیے سوہانِ روح بن جاتا ہے۔ماں یا باپ کی علیحد گی کی وجہ سے منتشر خیالات کے حامل بچے معاشرئے کے لیے اُس طرح ذہنی طور پر بہتر شہری ثابت نہیں ہو پاتے جس طرح والدین کی آغوش میں پلنے والے بچوں کی پرورش ہورہی ہوتی ہے۔ حالیہ ایک دہائی سے پاکستانی سو سائٹی کے بودوباش میں عجیب و غریب تبدیلی آئی ہے۔ اِس تبدیلی کو اگر تباہی سے تعبیر کیا جائے تو بے جا نہ ہوگا۔ ٹی وی چینلز کی بھرمار، موبائل فون اور انٹرنیٹ کا بے تحاشہ استعمال معاشرئے کو ایسے دوراہے پہ لے آیا ہے کہ خاندانی نظام کی دھجیاں بکھرتی جارہی ہیں۔ دادا دادی جو کسی بھی گھر کے لیے نعمت و رحمت تصور ہوتے تھے اور اسلامی و مشرقی معاشروں کی پہچان تھے اُن کے حوالے جو صورتحال بنی ہے وہ یہ کہ اُن کا احترام ختم ہو کر رہ گیا ہے۔ دوسرا والدین کا احترام والا نظریہ بھی بہت حد تک مفقود ہوتا جارہا ہے۔ تیسرا موبائل کی وجہ سے سارا جہاں ایک بٹن کے دبانے پر آشکار ہونے کے لیے ہر وقت تیار ہوتا ہے اِس لیے زندگی میں ہوس پرستی نے اتنی جگہ بنا لی ہے کہ اب خلوص اور وفا صرف شاعری کی کتابوں میں ملتے ہیں۔ معاشرئے میں تعمیر و تربیت کے لیے سب سے اہم خیال کیا جانے والا شخص اُستاد اِس وقت اُس مقام کو کھو چکا ہے جو اِس معلمی پیشے کا خاصہ تھا۔اب اُستاد بھی پیسہ کمانے والی مشین بن چکا ہے کیونکہ معاشرتی اخلاقی زوال پذیری اِس نہج تک پہنچ چُکی ہے کہ اُستاد کا درجہ ایک ملازم کی طرح کا ہو چکا ہے اِس کی وجہ معاشرئے میں دولت کی عزت ہے اور یوں پرائیوٹ اداروں میں علم کی روشنی کی بجائے ڈگریوں کی لوٹ سیل لگی ہوئی ہے۔طلاقیں کیوں اتنی بڑی تعداد میں ہورہی ہیں اور جو بچے ماں یا باپ کے بغیر پروان چڑھیں گے اُن کے ساتھ کون کون سی محرمی ہے جو جونک کی طرح نہیں لپٹ جائے گی۔
اس مضمون میں لاہو رکی ایوننگ گار ڈین کورٹ کے حوالے سے آنکھوں دیکھا حال جناب چیف جسٹس کی خدمت میں پیش کرنا چاہتا ہوں کہ کیسے نا بالغان سے ملاقات سوہان روح بن گئی ہے۔ ایوننگ گارڈین کورٹ بنانے کا مقصد یہ تھا کہ بچوں کو روایتی عدالتی ماحول سے منفرد ماحول فراہم کیا جائے اور عام عدالتی اوقات کا ر کے بعد بچے اپنے والد یا والدہ سے ملاقات کر سکیں۔ تاکہ اُن کے اذہان پر روایتی عدالتی ماحول کا اثر نہ ہوپائے۔ اِس مقصد کے لیے لاہور میں ایوننگ گارڈین کورٹ نیو سیشن فیز - II میں قائم کی گئی اِس مقصد کے لیے ایک خاتون جج کا بطور گارڈین جج ایوننگ کورٹ تقرر کیا گیا۔ دو پولیس اہلکار مرد اور ایک خاتون پولیس اہلکار کا بطور خاص تقرر کیا گیا۔
گارڈین کورٹ کے معاملات کے حوالے سے بہت سے مسائل اتنی پیچیدگیوں کے حامل ہیں کہ بچے بُری طرح متاثر ہو رہے ہیں لیکن اِس وقت جو صورتحال ہے ایوننگ کورٹ کی وہ کچھ یوں ہے کہ عام طور پر ملاقات کا دن ہفتہ والاہوتا ہے کیونکہ اُس دن اکثر سکولوں میں چھٹی ہوتی ہے۔ ہفتے والے دن ایوننگ کورٹ کا منظر کچھ اس طرح کا ہوتا ہے کہ خاتون گارڈین جج عملے سمیت عدالتی کمرئے میں بیٹھی ہوتی ہے اور وہیں پر ایک جم غفیر ہوتا ہے۔ بچے اپنے والد یا والدہ سے ملاقات کے لیے آئے ہوتے ہیں اور شور و غوغا اتنا کہ خدا کی پناہ۔ جج صاحب کی آواز بھی وکیل صاحب تک نہیں پہنچ پاتی۔ بچوں کو ملانے کے لیے لانے والے اُن کے والد یا والدہ یا اُن کے رشتے دارآپس میں لڑ جھگڑ رہے ہوتے ہیں۔عدالت کے باہر بنچوں پر بیٹھے بچے اور اُن کے والدین اِس طرح بیٹھے ہوتے ہیں جیسے کسی فوتگی پر آئے ہوں۔ بچوں کی ملاقات ولا کمرہ مرغیوں کے ڈربے سے کم تر نہ ہے۔ اِن حالات میں جج صاحبہ کی قوت استداد کار بھی بُری طرح متاثر ہوتی۔ وہ میاں بیوی جو جولت خلوت کے ساتھی رہے ہوتے ہیں جب وہ ملاقات کے لیے اپنے بچے یابچی کے لیے آتے ہیں وہ اِس طرح ایک دوسرئے کو گھورتے ہیں جیسے کہ ہندوستان پاکستان کی جنگ ہونے جارہی ہے۔
ایوننگ کورٹ کا آئیڈیا بہت ا چھا ہے لیکن ایوننگ کورٹ پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، بچوں کے لیے ملاقات کے لیے کم ازکم چار کمرئے مختص کروائے جائیں۔ ہفتہ والے دن چونکہ بہت زیادہ رش ہوتا ہے اُس دن خصوصی طور پرانتظامات کیے جائیں۔ راقم کو جمعرات والے دن بھی ایوننگ کوررٹ جانے کابھی موقع ملا، ہفتہ والے دن کا تو حال آپ کو بتا چکا ہوں۔ جمعرات والے دن جب راقم نے اہلمد سے نوٹس تیار کروائے تو اُس کا کہنا تھا کہ میڈم پانچ بجے سے پہلے اِن نوٹسوں پر دستخط نہیں کریں گے۔ میڈم چیمبر میں ہیں اجات نہیں اُن کے پاس جانے کی۔ میرے اصرار پر اُن کا کہنا تھا کہ آپ ہماری نوکری کے پیچھے کیوں پڑ گئے ہیں۔ ہفتے والے دن ہی ایوننگ کورٹ میں رش ہوتا ہے باقی دنوں میں بس دس پندرہ بچوں کی ملاقات ہوتی ہے۔ میں نے جو نتیجہ اخذکیا ہے اِس ایوننگ کورٹ میں اپنے کلائنٹ کے ساتھ جا کر وہ یہ کہ ایوننگ کورٹ تو عام عدالتوں سے زیادہ بُرئے حالات میں ہے۔اِس لیے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس صاحب کی خدمت میں التماس ہے کہ ایوننگ کورٹ کے حالات درست کیے جائیں۔ اگر ہفتہ والے دن ملاقات کے لیے رش زیادہ ہے تو ہفتہ والے دن کے لیے عدالت کو ملاقات کے لیے مزید کمرئے مہیا کیے جائیں۔ ورنہ ایوننگ گارڈین کورٹ تو اس مقصد کے لیے تھی کہ بچوں کی نفسیات پر بُرا اثر نہ پڑے یہاں تو اُلٹا بُر ا اثر ہی پڑ رہا ہے۔
