Thursday, March 14, 2024

A great Book on Civil Laws by Ashraf Asmi Advocate

  دیوانی مقدمات کے اہم فیصلہ جات بمعہ مختصر تشریح  و  توضیح کی اہم دستاویز  اہم کاوش

صاحبزادہ میاں محمد اشرف عاصمی

پاکستان میں سول ایڈمنسٹریشن آف جسٹس کے حوالے سے وکلاء صاحبان بالخصوص اور سائلین بالعموم شاکی نظر آتے ہیں وجہ صاف ظاہر ہے کہ سول پروسیجر کوڈ 1898 جس کے تحت سول مقدمات کے فیصلے صادر کیے جاتے ہیں یہ وہ گورکھ دھندہ ہے جو  نظام انصاف کے اہم سٹیک ہولڈرز، وکلاء سائلین اور جج صاحبان کو ہر سطع  پرمشکل میں ڈال دیتا ہے۔ یوں سول مقدمات کا فیصلہ سول کورٹ سے لے کر اعلیٰ عدالت تک اپیلوں وغیرہ تک میں حاصل کرنے کے حوالے سے یہ ضرب المثل بن  چکی  ہے کہ عمر نوح چاہیے اور قارون  ا خزانہ چاہیے۔ سول پروسیجر کوڈ 1898 انگریز نے اُس وقت رائج کیا جب پاکستان ہندوستان اور بنگلہ دیش ایک ہی ملک تھے اُس وقت متحدہ ہندوستان کی آبادی 238,396,327 تھی اب اِس علاقے کی آبادی  پونے دو ارب کے قریب ہے۔ جو قانون 25 کرورڑآبادی کے لیے تھا اب وہاں پونے دو ارب آباد ی ہوچکی ہے۔ بھارت، پاکستان،بنگلہ دیش میں سو ل مقدمات کے فیصلے اب بھی سول پروسیجر کوڈ کے تحت ہی کیے جاتے ہیں۔                                                                                                 

جب یہ سول پروسیجر کوڈ بنایا گیا اُس وقت ہوائی جہاز، کمپیوٹر انٹرنیٹ، ٹی وی نہ تھے۔ آمدو رفت کے ذرائع انتہائی سست تھے۔ تصور میں لائیں کہ سو ا سو سال پہلے فوت ہونے والا کوئی شخص اگر موجودہ دور میں پیدا ہوجائے تو اُس کے دماغ کا فیوز اُڑ جائے۔ اب سول پروسیجر کوڈ جو اُس وقت  کے لیے بنایا گیا تھا کہ مدعا علہیان کو نوٹسوں کی تعمیل کیسے کروانی ہے۔ اور موجودہ دور میں تو صورتحال  یہ ہے کہ پاکستان کی آبادی چوبیس کروڑ ہے اور پاکستان میں موبائل فون کے جو کنکشن ہیں وہ تقریباً بیس کروڑ ہیں تو کیا ہر شخص کی رسائی وٹس ایپ، موبائل فون تک نہ ہے۔ لیکن سول عدالتیں میں نوٹسوں کی تعمیل کے لیے کئی مہینوں لگا دئے جاتے ہیں۔ پھر جواب دعوی،  دعوی جات میں شہادتیں بحث، وغیرہ ایک لمبا پراسیس۔ جو شخص ایک دفعہ سول کورٹ میں دعویٰ دائر کردیتا ہے اُس کے بعد پھر وہ اُس کو ختم کروانے  کے خواب ہی دیکھتا رہ جاتا ہے۔ وکلاء صاحبان  ی بہتر ٹریننگ نہ ہونے کی وجہ سے یہ سول  پروسیجر کوڈ منحوس چکر بن کر عوام الناس کے لیے درد سر بنا ہوا ہے۔

راقم نے نوجوان وکلاء کے لیے خاص طور پر لاہور ہائی کورٹ کے معزز جسٹس جناب شاہد بلال حسن کی 2022  اور 2023 کے دوران رپورٹیڈ فیصلہ جات  جو خاص طور پر سول پروسیجر کے حوالے سے ہیں اُن کو اِس طرح  تیار کیا گیا ہے کہ فیصلے کا خلاصہ، فیصلے میں کن ایشوز کو ڈسکس کیا گیا ہے فیصلے میں اعلیٰ عدلیہ کی جن ججمنٹس کا حوالہ دیا گیا ہے وہ اور  فیصلے میں سول پروسیجر کوڈ 1898 کے جو سیکشن اور آرڈر  استعمال ہوئے ہیں ان کو یکجا کیا ہے   http///ashrafasmiadvocate.com ویب سائٹ پر جاکر معزز جسٹس صاحب کے فیصلہ جات سے استفادہ کیا جاسکتا ہے اور کتابی شکل میں  موجود ہے

لاہور ہائی کورٹ کے محترم جسٹس شاہد بلال حسن کے 2022 اور 2023 کے دوران کئے گئے رپورٹیڈ فیصلے، خصوصاً نوجوان وکلاء کے لئے، سول پروسیجر کے حوالے سے معنی خیز اور اہمیت کے حامل ہیں ان فیصلوں کا خلاصہ اور ان میں سے اُٹھائے گئے اہم ایشوز کی تفصیلات نوجوان وکلاء کے لئے خصوصی طور پر انتہائی اہمیت کی حامل  ہیں۔

 سول پروسیجر کوڈ کا موضوع نوجوان وکلاء کے لئے خصوصی اہمیت رکھتا ہے کیونکہ ان کی قانونی تربیت اور روشن مستقبل میں یہ   اہم کردار ادا کرتا ہے۔ جسٹس شہاد بلال حسن صاحب کے فیصلوں میں سول پروسیجر کے حوالے سے واضح راہنمائی نوجوان وکلاء کو ان کی قانونی مقدمات کے لیے دستیاب ہے۔                  

 اِس دستاویز جو کہ کتابی صورت میں ہے  میں فیصلوں کا خلاصہ مختصر اور واضح ہے، جس سے نوجوان وکلا کو فوراً فیصلوں کی اہم نکات سے آ گاہی حاصل جاتی ہوتی ہے۔ اس سے وہ اہم معلومات حاصل کرسکتے ہیں جیسے کہ ان کی مقدمے میں مشکلات، حقائق کا جائزہ اور مقدمات کے حل کے لیے اعلیٰ عدلیہ کے فیصلہ جات بطور ریفرنس وغیرہ

فیصلوں میں سول پروسیجر کوڈ 1898 کے جو سیکشنز اور آرڈر استعمال ہوئے ہیں، جس سے نوجوان وکلا کی تربیت میں مدد ملتی ہے۔ یہ سیکشن اور آرڈر، قانونی عمل میں تنقیدی جائزہ لینے میں نوجوان وکلا کیلئے بہترین راہنمائی فراہم کرتا ہے۔وراثتی جائیداد سے محرومی کے معاملات، وراثتی جائیداد کی تقسیم  کے مقدمات، نان ونفقہ کے کیسز،سول مقدمات کی معیاد سماعت کے ایشوز، ازالہ حیثیت عرفی کے دعویٰ جات، ہائی کورٹ میں رٹ  پٹیشن کے قابل سماعت ہونے کا معاملہ، ماتحت عدلیہ میں ٹرائل کے دوران سول کیسوں میں شہادت میں میس ریڈنگ اور نان ریڈنگ کے ایشوز، سول کیسوں میں ٹرائل کے دوران حق دفاع ختم کرنے کے حوالے سے ہائی کورٹ کی آبزرویشن، زرعی زمین کی تقسیم اور ونڈہ جات میں ہونے والی کمی بیشی کے مقدمات کی ہائی کورٹ میں کیسے شنوائی ہوسکتی ہے۔ غرض یہ کہ لاہور ہائی کورٹ کے محترم جسٹس جناب شاہد بلال حسن کے رپورٹ شدہ پچھلے دو سالوں کے فیصلہ جات کو ایک جگہ یکجا کرنا اِن فیصلہ جات کا خلاصہ مختصر الفاظ میں ترتیب دینا اِن اہم فیصلہ جات میں سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس کے فیصلہ جات کا ریفرنس اور اِن فیصلہ جات میں سول قوانین، سول  پروسیجر کوڈ، ریوینو قوانین وغیرہ کا خاص طو پر علیحدہ  علیحدہ سے ترتیب دینا  اشرف عاصمی ایڈووکیٹ کی ایسی کاوش ہے جس سے نہ صرف قانون کے طالب علم، ریسرچ سکالرز،   اعلیٰ  ملازمت  کے حصول کے لیے مقابلہ  کے امتحانات دینے کے خواہشمند، سول جج اور ایڈیشنل ڈسٹرکٹ و سیشن جج کے امتحانات  کے دینے کے خواہشمندوکلاء  اور سب سے بڑھ کر عام وکلاء صاحبان اس سے بھرپور استفادہ کرسکتے ہیں۔ 


No comments:

Post a Comment